امریکی بلاگر سنتھیا رچی کی رحمان ملک کے خلاف درخواست مسترد، عدالت جانے کا فیصلہ

امریکی بلاگر سنتھیا رچی کی پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک کے خلاف ریپ کرنے کے الزامات کی درخواست پر پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد انھوں نے عدالتجانے کا فیصلہ کیا ہے


اسلام آباد پولیس نے امریکی شہری اور بلاگر سنتھیا رچی کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست جس میں انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک پر عصمت دری کا الزام عائد کیا تھا، شواہد نہ ہونے کی بنا پر ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔
اسلام آباد کی سیکریٹریٹ پولیس نے اپنی تفتیشی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی بلاگر کی جانب سے لگائے گئے الزامات میں کسی قسم کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے اور ان میں ایسا کوئی مصدقہ مواد نہیں تھا کہ اس پر ایف آئی آر درج کی جائے۔

          ???سنتھیا رچی نے فیس بک لائیو کے دوران کیا الزامات لگائے




سنتھیا رچی نے جون کے پہلے ہفتے میں فیس بک لائیو اور پھر ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں دعویٰ کیا کہ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے مبینہ طور پر اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ان کا ریپ کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ سنہ 2011 میں اس وقت پیش آیا جب وہ اہنے ویزے سے متعلق بات چیت کے لیے منسٹرز انکلیو میں وزیر داخلہ کے گھر گئی تھیں۔
’میں سمجھی تھی کہ یہ ملاقات میرے ویزے سے متعلق ہے لیکن مجھے پھول اور نشہ آور مشروب دیا گیا۔ میں چپ رہی، پی پی پی کی حکومت میں پی پی پی کے وزیر داخلہ کے خلاف میری مدد کون کرتا؟‘
سنتھیا رچی کا دعویٰ ہے کہ یہ واقعہ اسی وقت کے آس پاس پیش آیا تھا جب ایبٹ آباد میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی تھی اور پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سازگار نہیں تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے سنہ 2011 میں اپنے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے سے متعلق امریکی سفارت خانے میں کسی کو بتایا تھا لیکن امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اتنے پیچیدہ تھے کہ انھیں ملنے والا ’ردعمل زیادہ مناسب نہیں تھا..........۔





Comments